شیاماپرساد مکھرجی کے زمانے سے ہندوتوا کے حامیوں کا دعوی تھا کہ کشمیر کو جو خصوصی حیثیت دی گئی ہے وہ اس کے ہندوستان میں اندماج میں رکاوٹ ہے۔ ہندوتوادی یہ نعرہ برسوں لگاتے رہے اور بالآخر بی جے پی کی حکومت نے ۵؍اگست۲۰۱۹ کو ان کا خواب پورا کر دیا ، آئین کے آرٹیکل۳۷۰ کو یکلخت ختم کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی اور اعلان کیا کہ اب کشمیر کے مسائل حل ہوجائیں گے، دہشت گردی ختم ہو جائے گی اور وہ ہندوستان کا صحیح معنوں میں حصہ بن جائے گا۔ اس اقدام سے پہلے ہی وہاں گورنر راج قائم کردیا گیاتھا یعنی جتنے بھی جمہوری حقوق اور آزادیاں تھیں ان کا خاتمہ کردیا تھا۔
آرٹیکل۳۷۰ کے خاتمے کے ساتھ مودی گورنمنٹ نے کشمیر کے حصے بخرے بھی کر دیے۔ زمینی لحاظ سے کشمیر کے سب سے بڑے حصے لداخ کو ریاست سے کاٹ کر ایک الگ یونین ٹیریٹری بنا دیا گیا اور خود جموں و کشمیر کے ریاست کا درجہ ختم کر کے اس کو بھی یونین ٹیریٹری بنا دیا گیااور اس پر دہلی سے براہ راست حکومت ہونے لگی ۔ کشمیر کے خصوصی اور مقامی قوانین ختم ہو گئے اور ان کی جگہ تمام ہندوستانی قانون وہاں یکلخت نافذ ہونے لگے۔ کشمیر میں فوج کو ۱۹۹۰ سے ہی افسپا قانون AFSPA کے تحت خصوصی اختیارات حاصل تھے جس کے تحت کسی بھی ظلم، زیادتی، قتل اور بلاتک اری کے لیے فوج کی ذمےداری طے نہیں ہوتی ہے۔ اب آرٹیکل ۳۷۰ کے خاتمے کے بعد گورنر کا براہ راست حکم چلنے لگا۔ لوگوں سے زمینیں چھینی جانے لگیں، معمولی معمولی باتوں پر لوگوں کو سرکاری ملازمتوں سے نکالا جانے لگا، جیل رسیدہ کشمیریوں کی تعداد بڑھنے لگی ، میڈیا کو مردہ بنا دیا گیا اور اب تاناشاہی کی یہ حالت ہے کہ پوری ریاست میں گھر گھر اور لائبریری لائبریری کتابوں کو کھنگالا جا رہا ہے اور اگر کسی کتاب میں سرکار کے لحاظ سےکوئی ”قابلاعتراض“ بات لکھی ہے تو اسے ضبط کر کے جلا دیا جاتا ہے اور کتاب رکھنے والے کو سزا الگ سے ملتی ہے ۔ یہ ہندوستانی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے کیونکہ بھارتی نیای سنہیتا کے سکشن ۹۸ کے مطابق مرکزی یا ریاستی حکومت کسی متعینہ کتاب پر بندش لگاسکتی ہے اور اس کے بعد ہی پولیس اس متعینہ کتاب کو ضبط کرسکتی ہے جبکہ کشمیر میں کسی متعینہ کتاب پر سرکاری بندش کے بغیر اندھادھند طریقے سے گھروں اور لائبریریوں سے کتابیں ضبط ہورہی ہیں۔
آرٹیکل۳۷۰ کو ختم ہوئے اب سات سال ہو گئے ہیں، ظلم و بربریت اپنی انتہا پر ہے لیکن میڈیا پر سخت بندش کی وجہ سے اس کی رپورٹنگ نہیں ہوتی ہے۔ کیا آرٹیکل۳۷۰ یا دوسرے لفظوں میں ریاست کی خودمختاری (اٹانومی) ختم کرنے سے کشمیر کے حالات ٹھیک ہو گئے اور کشمیری ”قومی دھارے“ میں مدغم ہو گئے؟ جواب مکمل طور سے نفی میں ہے بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ اب حالات پہلے سے زیادہ خراب ہیں۔ ساری بندشوں کے باوجود میلیٹنسی جاری ہے، لوگوں کے مظاہرے جاری ہیں اور ہزاروں لوگ برسوں سے جیلوں میں بند ہیں، لکھنے بولنے پر مکمل پابندی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آرٹیکل۳۷۰ کا خاتمہ بذات خود ایک غیرآئینی اور غیرقانونی قدم تھا۔ آئین کے اسی آرٹیکل (۳۷۰) کے تحت اس کا خاتمہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب جموں و کشمیر کی اسمبلی اس کے خاتمے کی بواسطۂ اکثریت سفارش کرے۔ جبکہ ایسا بالکل نہیں ہوا بلکہ اس آرٹیکل کے خاتمے سے پہلے ہی کشمیر اسمبلی تحلیل کی جا چکی تھی اور گورنر راج نافذ ہو چکا تھا۔ مرکزی سرکار کے نمائندے (گورنر)نے لکھ کر بھیجا کہ آرٹیکل۳۷۰ کو ختم کر دیا جائے۔ یہ سفارش غلط اور غیرقانونی تھی۔ یہی نہیں بلکہ گورنر نے یہ سفارش مرکزی سرکار کے دباؤ میں آ کر لکھی تھی جیسا کہ اس وقت کے گورنر ستیہ پال ملک نے بعد میں خود بتایا۔
آرٹیکل۳۷۰ ہمارے آئین کی وہ شق ہے جو کسی نہ کسی طرح کشمیر پر ہمارے قبضے کے روز اول سے اس سارے معاملے کا حصہ رہی ہے۔ وثیقۂ انضمام Instrument of accession پر مہا راجا ہری سنگھ نے ۲۶؍ اکتوبر ۱۹۴۷ کودستخط کئے اور اگلے دن گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹبیٹن نے اسے قبول کر لیا۔ اس کے تحت مہاراجا نے صرف تین اختیارات ہندوستان کو منتقل کئے تھے یعنی دفاع، خارجہ امور اور وسائل اطلاعات Defence, External Affairs and Communications ۔ دوسرے لفظوں میں الحاق مشروط تھا اور صرف تین امور میں ہوا تھا جبکہ داخلی طور پر کشمیر خودمختار تھا۔ الحاق کے خط کے جواب میں گورنر جنرل نے ۲۷؍اکتوبر ۱۹۴۷ کو اپنے خط میں مہا راجا ہری سنگھ کو لکھا کہ حالات معمول پر آنے پر ریاست کے الحاق کے مسئلے کو عوام میں رائے شماری کرا کر طے کیا جائے گا۔ یعنی ہندوستان نے ریفرنڈم کرانے کا وعدہ روز اول کو ہی کردیا تھا اور قبول کیا تھاکہ یہ الحاق درست نہیں ہے بلکہ اس کے لئے عوام سے ان کی مرضی پوچھنی پڑے گی۔ ریفرنڈم کرانا اس لیے بھی ضروری تھا کیونکہ برطانیہ اور امریکہ کی حکومتوں کی قانونی رائے تھی کہ وثیقۂ انضمام کافی نہیں ہے بلکہ مہاراجہ کشمیر کے ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ حالت قائمہ(Standstill) پر قائم رہنے کے معاہدے کی موجودگی میں انضمام باطل Invalid ہے۔
ہندوستان خود کشمیر کے مسئلے کو جنوری۱۹۴۸ء میں اقوام متحدہ لے گیا اور وہاں حالات درست ہونے پر ریفرنڈم کرانے کا وعدہ کیا لیکن اس وعدے کو کبھی پورا نہیں کیا گیا۔ ہندوستان کو کم از کم اپنے زیرقبضہ علاقے میں ریفرنڈم کرا کر دنیا کو دکھا دینا چاہیے تھا کہ اس نے اپنا وعدہ وفا کر دیا ہے۔
اسی پس منظر کے تحت ہندوستان نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا احترام کرتے ہوئے آئین ہند میں آرٹیکل۳۷۰ داخل کیا جس کے تحت جموںوکشمیر کو اندرونی امور میں خود مختاری autonomy دی گئی۔ اس طرح کے استثناءات بعض دوسری ہندوستانی ریاستوں کو بھی حاصل ہیں۔ آئین کے اس مادے میں یہ بھی لکھ دیا گیا کہ یہ شق اسی وقت ختم کی جا سکتی ہے جب جموں و کشمیر کی اسمبلی اکثریت رائے سے اس کی در خواست کرے۔ کسی اسٹیٹ کو زیب نہیں دیتا کہ آئینی طور پر ایک وعدہ کرنے کے بعد اس سے مکر جائے۔
شیخ عبداللہ کو، جنہوں نے کشمیر کے ہندوستان سے الحاق کرانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، ۵؍ مارچ ۱۹۴۸ کو جموں و کشمیر کا وزیر اعظم بنایا گیا۔ لیکن جلد ہی ہندوستان کو لگا کہ ان کی وفا داری مشکوک ہے کیونکہ وہ معاہدۂ الحاق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں بولنے لگے تھے۔ اس لئے ان کو ۸؍اگست۱۹۵۳ کو صدر ریاست کرن سنگھ نے بر طرف کر دیا ۔ اگلے دن ہی ان کوگرفتار کر لیا گیا اور اگلے گیارہ سال تک جیل میں رکھا گیا۔ شیخ عبد اللہ کو ۸؍ اپریل ۱۹۶۴ میں سارے الزامات واپس لینے کے بعد رہا کر دیا گیا۔ مئی ۱۹۶۴ میں نہرو کے انتقال کے بعد ایک بار پھر شیخ عبداللہ کو گرفتار کر لیا گیا اور وہ دوبارہ ۱۹۶۵ سے ۱۹۶۸ تک جیل میں رہے ۔ پھر ۱۹۷۱-۱۹۷۲ کے دوران ان کو کشمیر سے جلا وطن کر دیا گیا۔ ان کو برطرف کرنے کے بعدمرکز نے اپنے من مانے لوگ وہاں چیف منسٹر بنانے شروع کردئے اور الیکشن میں کھلی دھاندلی شروع کردی اور صحیح معنوں میں مرکزی وزارت داخلہ نے کشمیر کو براہ راست چلانا شروع کر دیا۔
مرکزی دخل اندازی کا یہ حال تھا کہ نیشنل کانفرنس کو ۱۹۶۴ کے انتخابات میں کل ۷۵؍سیٹوں میں سے ۷۰ سیٹیں ملیں، لیکن ۱۹۶۷ کے انتخابات میں اسے صرف ۸ سیٹیں ملیں اور ۱۹۷۲ میں اسے ایک سیٹ بھی نہیں ملی حالانکہ شیخ عبداللہ کشمیر کے سب سے قد آور لیڈر تھے اور ان کی پارٹی نیشنل کانفرنس کا اس وقت تک کشمیر میں کوئی مد مقابل نہیں تھا۔حقیقت یہ ہے کہ پچھلے سات دہوں میں ۲۰۱۹ سے بہت پہلے ہی کشمیر کی ”خودمختاری“کو دھیرے دھیرے کھوکھلا کر دیا گیا تھا۔
۱۹۷۵ میں اندرا- شیخ عبداللہ معاہدے کے بعد شیخ عبداللہ ہندوستانی آئین کے تحت چیف منسٹر بنے اور ۱۹۸۲ تک اس منصب پر رہے۔ اس سے پہلے ان کا عہدہ وزیراعظم کا تھا۔ ان کے بعد ان کے بیٹے فاروق عبد اللہ چیف منسٹر بنے۔
کشمیر میں ۱۹۸۷ کے بعد سے حالات اس وقت بہت خراب ہوگئے جب الیکشن میں مرکز نے کھلی دھاندلی کی اور جیتے ہوئے امید واروں کو ہرایا گیا جن میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے جمہوری طریقۂ کار سے مایوس ہونے کے بعد بندوق اٹھالی۔ اس کے بعد سے کشمیر میں عام حالات کبھی واپس نہیں لوٹے۔ وہاں ایک طرح سے ہمیشہ کرفیو رہتا ہے۔ فوج کے سامنے عوام کی تو کیا پولیس کی بھی نہیں چلتی ہے۔
کشمیر میں ۱۹۹۰ میں افسپاThe Armed Forces (Jammu & Kashmir) Special Powers Act (AFPSA) قانون نافذ کیا گیا اور تب سے آج تک نافذ ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہاں مارشل لا نافذ ہے جس کے تحت فوج کو ہر قسم کی آزادی حاصل ہے اور بڑے سے بڑے دلسوز واقعات جیسے کونن پوش پورہ کی اجتماعی آبروریزی اور چھتی سنگھ پورہ کے قتل عام پر بھی کوئی انصاف نہیں ملا۔ شہروں اور دیہاتوں میں ہر جگہ فوج کے چیک پوائنٹ ہیں۔ فوج جس کو چاہتی ہے اٹھا لیتی ہے۔
ان حالات میں ۵؍اگست ۲۰۱۹ کو آرٹیکل ۳۷۰ کو اچانک ختم کردیا گیا جس سے رہی سہی خودمختاری بھی ختم ہوگئی۔ اس کے بعد سے وہاں لفٹنٹ گورنر کے ذریعے مرکز کی ڈائرکٹ حکومت قائم ہے۔ سختیاں اور بھی بڑھ گئی ہیں۔ میڈیا کی آزادی پوری طرح سلب کرلی گئی ہے جس کی وجہ سے نہ وہاں صحیح خبریں چھپتی ہیں اور نہ باہر آتی ہیں۔
وعدے کے سات سال کے بعد اور سپریم کورٹ کو مرکزی حکومت کی یقین دہانی کے باوجود آج تک جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ Statehood واپس نہیں کیا گیا ہے۔یہ ہندوستان کی تاریخ میں پہلا واقعہ ہے کہ کسی اسٹیٹ کو یونین ٹیریٹری بنادیا جائے۔ ہزاروں لوگ جیلوں میں برسوں سے سڑ رہےہیں۔ نفرت کا یہ حال ہے کہ جموں کے ایک میڈیکل کالج میں زیادہ مسلمانوں کے داخلے ہونے پر وہ کورس ہی ختم کر دیا گیا۔ مظلومہ آصفہ کے دردناک اغوا،ریپ اور قتل پر آبادی کے ایک حصے نے جشن منایا۔ دس ہزار کے قریب لوگ کشمیر میں آج بھی ”غائب“ ہیں۔ جگہ جگہ ”مجہول قبریں“ ہیں جن کے مکینوں کے بارے میں کوئی کچھ بھی یقینی طور پر نہیں جانتا۔ وہاں ہزاروں ”نصف بیوائیں“ ہیں جن کے شوہر برسوں سے غائب کر دئے گئے ہیں اور حکومتی ادارے ان کو بتاتے بھی نہیں کہ ان کے شوہروں کے ساتھ کیا ہوا۔ ذرا سے شک پر گھر بلڈوز کردئے جاتے ہیں۔
اس اندھیری رات کا خاتمہ ضروری ہے۔ اس کے علاج کے لیے آرٹیکل ۳۷۰ کو دو بارہ ہندوستانی آئین میں بحال کرنا ضروری ہے۔ جموں و کشمیر کے لیے ریاست کا درجہ بحال کرنا بھی آرٹیکل۳۷۰ کے بحال کرنے کے بعد ہی معنی خیز ہوگا اور وہاں کے عوام کا اعتما د بحال ہوگا۔ ہندوستان کو کشمیر سے وہی معاملہ کرنا چاہئے جو کسی اور ہندوستانی اسٹیٹ سے کرتا ہے۔
(ختم)

Comments